13 اپریل 2026 - 16:15
حصۂ دوئم | 40 روزہ جنگ میں ٹرمپ کی تزویراتی شکست؛ تکنیکی اور فوجی شکست

اسلامی جمہوریہ ایران نے، چالیس سالہ تزویراتی جنگ کے دوران، عوامی استقامت، فوجی تسدید اور زیرکانہ سفارتکاری کے سہارے، امریکہ کے زیادہ سے زیادہ دباؤ کے امریکی پراجیکٹ پر 30 تزویراتی ناکامیاں مسلط کی ہیں اور علاقائی طاقت کے قواعد کو اپنے نام کر دیا۔/ جدیدترین لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور قیمتی فضائی اثاثوں کی حفاطت میں ناکامی / حزب اللہ کا خاتمہ کرنے میں ناکامی / ایران کو تنہا کرنے کے منصوبے کی ناکامی / خطے میں اپنے انتہائی مہنگے فوجی اڈوں کی حفاظت میں ناکامی / دنیا کے جدیدترین ریڈاروں کی حفاظت میں ناکامی / ایئرکرافٹ کیریئرز سمیت امریکی بحری جہاز قریب نہ آسکے / زمینی تقابل اور زمینی فوج کی تعیناتی میں ناکامی / زمینی رسوائی /طبس2۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں ایک عالمی طاقت شاذ و نادر ہی ـ اپنی تمام تر فوجی، ابلاغیاتی، معاشی صلاحیتوں کو 40 روزہ جنگ کے دوران ـ نہ صرف اپنا کوئی ہدف حاصل نہ کرسکی ہے بلکہ ہر مرحلے میں ایک نئی شکست کے تجربے سے گذری ہے۔

یہ رپورٹ میدانی مستند اور میدانی حقائق کی بنیاد پر ایک زیادہ سے زیادہ ہمہ جہت پراجیکٹ کی شکست و زوال کے نمونے پیش کرتی ہے:

حصۂ دوئم: تکنیکی اور فوجی شکست

9۔ جدیدترین لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور قیمتی فضائی اثاثوں کی حفاطت میں ناکامی

ایف-35 اسٹیلتھ طیارے، ایف-15، ایف-16، ایف-18، A-10، ایئرٹینکرز، ا آواکس طیارے، جدید ترین ڈرونز ایران کے ایئر ڈیفنس سسٹم کی زد میں آکر تباہ ہوگئے۔ اور امریکہ کے ناقابل شکست ہونے کا افسانہ ہوا ہو گیا۔

10۔ حزب اللہ کا خاتمہ کرنے میں ناکامی

حزب اللہ لبنان نہ صرف ختم نہیں ہوئی بلکہ اپنی عوامی حمایت کے بدولت اس کی تسیدی صلاحیت اور آپریشنل قوت میں اضافہ ہؤا۔ حزب اللہ کی میزائل قوت جنوبی لبنان میں ـ شمالی فلسطین میں صہیونی فوج کے مقابلے میں ـ تسدیدی کردار ادا کررہی ہے۔

11۔ ایران کو تنہا کرنے کے منصوبے کی ناکامی

امریکہ کے اعلانیہ اہلاف کے برعکس، یہ امریکہ ہی تھا جو بین الاقوامی فورموں میں تنہا ہوگیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے بین الاقوامی فورموں میں اپنی پوزیشن کی حفاظت کی اور چین، روس اور پڑوسی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو تقویت کرکے اپنے سفارتی نیٹ ورک کو مضبوط بنایا۔

12۔ خطے میں اپنے انتہائی مہنگے فوجی اڈوں کی حفاظت میں ناکامی

خطے میں امریکی فوجی اڈے وسیع پیمانے پر حملوں کا نشانہ بنے ہیں اور ان کی دفاعی صلاحیت تقریبا مکمل طور پر ختم ہوئی۔ پیٹریاٹ اور تھاڈ سسٹمز نہ صرف حفاظت کا باعث نہیں بن سکے بلکہ خودبھی تباہ ہو گئے۔

13۔ دنیا کے جدیدترین ریڈاروں کی حفاظت میں ناکامی

خطے میں تعینات "تھاڈ اور پیٹریاٹ نیز آئرن ڈوم، ایرو، ڈیوڈ سلنگ" جیسے انتہائی مہنگے ریڈار ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کا نشانہ بن کر تباہ ہو گئے۔ یہ فنی لحاظ سے بھی اور ساکھ کے اعتبار سے بھی، پینٹاگون کے لئے انتہائی بھاری ضرب سمجھی جاتی ہے۔

14۔ ایئرکرافٹ کیریئرز سمیت امریکی بحری جہاز قریب نہ آسکے

امریکی طیارہ بردار جہازوں کو تزویراتی پسپائی اختیار کرنا پڑی اور انہیں ایران کے بحری کروز اور بیلسٹک میزائلوں کی زد سے باہر تعینات ہونا پڑا۔ یہ یمن کے مقابلے میں امریکی کیریئرز کی پسپائی کے بعد دوسرا موقع تھا کہ انہیں ایران کے مقابلے میں بھی پسپا ہونا پڑا۔

15۔ زمینی تقابل اور زمینی فوج کی تعیناتی میں ناکامی

پینٹاگون نے ایرانی سرزمین میں کسی بھی قسم کی زمینی فوج بھیجنے سے گریز کیا۔ یہ منصوبہ عراق اور افغانستان جیسی ـ البتہ زیادہ جدید ـ دلدل کے خوف سے شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہو گیا۔ زمینی کاروائی کی ایک کوشش ناکام ہوگئی۔

زمینی رسوائی /طبس2

امریکیوں نے جنوبی اصفہان میں اپنے تباہ شدہ ایف-15 طیارے کا پائلٹ تلاش کرنے کے بہانے، محدود زمینی کاروائی کے ذریعے ایران کا افزودہ یورینیم چرانے اور ایٹمی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جس کے لئے اسے دو C130 طیارے، دو A-19 طیارے، چار بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز، ایک ایف-15 طیارہ، کئی ڈرونز تباہ کرانا پڑے۔ اس تاریخی امریکی شکست کو طبس-2 کا نام دیا گیا جو 1980 میں طبس-1 کی امریکی شکست کی یاددہانی کراتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha